8 فروری 2012 - 20:30

انساني حقوق کي عالمي تنظيم ايمنسٹي انٹرنيشنل نے کہا ہے کہ يمن کے سابق ڈکٹيٹر عبداللہ صالح اور اس کے معاونين کو عدالتي استثناء نہيں ديا جانا چاہئےـ

ابنا: ايمنسٹي انٹرنيشنل نے کہا ہے کہ دنيا کے ملکوں کو چاہئے کہ انساني حقوق کي آشکارا خلاف ورزي کرنے والے عبداللہ صالح اور اس کے معاونين کا سرمايہ ضبط کرليں ـ دريں اثنا يمن کے دار الحکومت صنعاء اور جنوبي شہر تعز سميت ملک بھر ميں عام شہريوں اور مسلح  افواج کے اہلکاروں نے مظاہرے کرکے صالح پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کيا ہےـ

مظاہرين کا کہنا ہے کہ جنوري دو ہزار گيارہ کے آخري ايام سے شروع ہونے والي عوامي تحريک ميں شامل تقريبا دو ہزار افراد کي ہلاکت کا ذمہ دار صالح ہےـ

صالح کو عدالتي استثنا دے ديا گيا ہے اور اکيس فروري تک صالح کے جانشين کا انتخاب کيا جائے گاـ ايمنسٹي انٹرنيشنل کي يمن کے امور کي محقق ليٹا ٹيلر نے ايک بيان ميں کہا کہ صالح اور اس کے افراد نے انساني حقوق کي خلاف ورزي کي ہے لہذا انہيں عدالتي استثناء نہين ملنا چاہئےـ انہوں نے کہا کہ جو شخص بھي عالمي جرائم کا مرتکب ہوا ہے اسے سزا سے نہيں بچنے دينا چاہئےـ ياد رہے کہ يمن کي پارليمنٹ نے صالح کو اس کے تينتيس سالہ اقتدار کے تمام جرائم کے سلسلے ميں فيصلہ کيا ہے کہ کسي بھي معاملے ميں صالح پر مقدمہ نہيں چلايا جائے گا -
........

/169